سرسید احمد خان (۱۸۱۷۔۱۸۹۸) بر عظیم پاک و ہند کی علمی،تہذیبی اور معاشرتی تاریخ کی ممتاز شخصیات میں سے ایک ہیں ۔وہ ہند مسلم تہذیب کے اس مرحلے پر قومی زندگی میں متحرک ہوئے جب قدیم و جدید کی سرحدیں باہم مل رہی تھیں اور ہندوستان کی فضا جدید طرز فکر اور زیست سے آشنا ہونے کو تھی ۔انھوں نے ہندوستانی ذہن کو زندگی کی بدلتی ہوئی سمت اور رفتار سے مانوس ہونے میں مدد فراہم کی اور ایسی فضا تیار کی جس نے ہندوستانی قوم بالخصوص مسلم دل و دماغ کو انقلابی تبدیلیوں سے دو چار کیا ۔ ان کی مساعی کسی ایک میدان تک محدود نہیں ۔انھوں نے زبان،ادب،سیاست،صحافت،تعلیم ،مذہب،سماجیات اور اخلاقیات سمیت ہر شعبۂ حیات میں گہرے نقوش مرتسم کیے۔

۱۷اکتوبر ۲۰۱۷ء ان کا دو سو سالہ یوم پیدائش ہے ۔لہٰذا اس اہم موقعے کی مناسبت سے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی ،اسلام آباد  میں یکم تا دو نومبر ۲۰۱۷ء کو شعبۂ اردو اور اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ  اینڈ ڈائیلاگ کے اشتراک سے، قائد اعظم آڈیٹوریم (فیصل مسجد کیمپس)کے مقام پر‘‘مطالعۂ سرسید:مابعد نو آبادیاتی جہات’’(Sir Syed in Post Colonial Perspective)کے عنوان سے  دو روزہ سیمینار کا اہتمام  کیا گیا ،جس میں ملک بھر سےجن اہل علم و دانش کو دعوت دی گئی ان  میں ڈاکٹر سید جعفر احمد، احمد جاوید،ڈاکٹر نجیب جمال،ڈاکٹر قیصر شہزاد، ڈاکٹر معین الدین عقیل، محمد سہیل عمر، ڈاکٹر محمد اکرام چغتائی، ڈاکٹر ضیاء الحسن، ڈاکٹر عابد سیال، ڈاکٹر محمد یوسف خشک ،ڈاکٹر فاطمہ حسن،مبین مرزا،ڈاکٹر شاہدہ رسول، ڈاکٹر تحسین فراقی،ڈاکٹر جمیل اصغر جامی،ڈاکٹر نعمان الحق، محمد دین جوہر، ڈاکٹر ناصر عباس نیر،عقیل عباس جعفری اور ڈاکٹر خالد سنجرانی کےاسمائے گرامی شامل .ہیں

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس  کا  رسمی آغاز  مؤرخہ یکم نومبر ۲۰۱۷ء ،بروز بدھ ،۱۰ بجے صبح حسب روایت تلاوت کلام پاک  اور نعت رسول مقبول ﷺسےکیا گیا جس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر شازیہ ارم نے انجام دیے ۔انھوں نے سیمینار کے تعارف کے بعد ڈاکٹر نجیب جمال کو کرسیٔ صدارت اور ڈاکٹر سید جعفر احمد کو کلیدی خطبے کے لیے مسند خاص  پر جلوۂ افروز ہونے کی دعوت دی ۔مہمان خصوصی جناب افتخار عارف قرار پائے جب کہ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے اجلاس کے مبصر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں ۔ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اپنے کلیدی خطبے میں سرسید کی فکر اور شخصیت کے مختلف  پہلو واضح کرتے ہوئے  کئی سوال اٹھائے کہ ماضی اور حال کو سامنے رکھتے ہوئے آج کے زمانی اور مکانی تصور میں سرسید کی کوئی اہمیت ہے بھی یا نہیں؟ کیا سرسید آج کے دور میں ضروری ہے اور کیا اس کے لیےمابعد استعماری دور اور انتشار پسندی کے دور میں  کہیں جگہ بچی ہے یا نہیں؟لیکن آخر میں خود اس کا جواب فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے کہیں بھی کوئی قابل ذکر گنجائش نہیں ہے ہم ایسے بند کمرے میں ہیں جس کا ہر دروازہ قدامت پرستی کی طرف کھلتا ہے بس ایک زنگ آلود کھڑکی ہے جو سرسید کے گلشن کی طرف کھلتی اور کھل سکتی ہے ۔مگر سوال یہ ہے کہ اس کھڑکی کو کھولے کون؟؟؟ڈاکٹر قیصر شہزاد نے مبصر کی حیثیت سےسب سے پہلے شعبۂ اردو کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے مخصوص ماحول میں کسی ایسی شخصیت کی فکر کے پہلوؤں پر اظہار خیال کیا جائے جو اپنے اجتہادات کی بنا پر نمایاں قرار پائی۔بعد ازاں انھوں نے ڈاکٹر جعفر احمد کے خطبے کو سراہتے ہوئے کہا زمانے کے بدل جانے کے باوجود ہمیں سرسید کی فکر کے نتائج اپ ڈیٹ نظر آتے ہیں۔ سائنسی خیالات آج بھی وہی ہیں جو اس زمانے میں تھے۔لہذا تیجۂ فکر اور منہاج کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے  اصل میں دونوں ایک ہیں ۔ڈاکٹر نجیب جمال نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ سرسید کے حوالے سے ہمیں ہمیشہ قدیم اور جدید کا فرق پایا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ سرسید کی ذات بھی سماجی  اعتبار سے دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی ۔لیکن  اس دوہرے شعور کی کش مکش کے باوجود بھی انھوں نے  اور ان کے رفقا نے نہ صرف جدید تعلیم کو متعارف کروایا بل کہ فکر میں تبدیلی بھی پیدا کی۔ لہذا اکیسویں صدی میں ان کی موجودگی کا جواز یہی ہے کہ شدت پسندی،عسکریت پسندی، فتنہ پروری اور گروہ بندی کے اس دور میں ایک کھڑکی جو بند ہوچکی ہے اگر ہم اس کو کھول دیں تو تازہ ہواآ تی رہے گی۔کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے اختتام پر  مہمان خصوصی جناب افتخار عارف تشریف لائے جنھوں نے شعبۂ اردو کو داد دینے کے بعد مقررین کو سراہا اور واضح کیا کہ گزشتہ پچاس برسوں میں سرسید اس قدر موضوع بحث نہیں بن سکے جتنا ان کا حق تھا۔لیکن اس میں دونوں طرح کے لوگ قصور وار ہیں ۔ایک وہ ریشنلسٹ جو ان کو کم ریشنل سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جید علما جو ان کی دیگر جہات پر گفتگو کرتے ہوئے اہم جہات کو نظر انداز کر جاتے ہیں ۔لہٰذا نیشنلسٹ طبقے کے لیے تجویز ہے کہ وہ صرف عقل کی بنیاد پر ان کو پرکھنے کے بجائے ان کی ذات کو گرفت میں لانے کی سعی کریں جب کہ علما کے لیے سوال ہے کہ جب تصوف میں ان لوگوں کو رعایت دے دی گئی  جنھوں نے شرع کے خلاف باتیں کیں تو یہی رعایت ایک مصلح قوم کی حیثیت سے سرسید کو کیوں حاصل نہیں ہو سکتیں؟کیوں کہ وہ ایسی شخصیت ہیں جو کم تر درجے کے عالم،محقق یا فلسفی تو ہو سکتے ہیں لیکن مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے صرف نظر نہیں کر سکتے۔جناب افتخار .عارف کے کظاب کے بعد مقررین اور مہمانان گرامی  کو نشان سپاس پیش کیے جس کے بعد افتتاحی سیشن کا اختتام ہوا

دوسرا سیشن کا آغاز دوپہر ۱۲ بجے ہوا جس کے تمہیدی کلمات کے لیے،نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے، ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے آئی ۔آر ۔ڈی ۔کے سربراہ ڈاکٹر حسن الامین کو دعوت دی ۔جنھوں نے شعبۂ اردو  اور مہمانان گرامی  کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کا تعارف کرواتے ہوئے افکار سرسید پر مختصراً تبصرہ کیا۔ان کے بعد ڈاکٹر نجیبہ عارف نے سیمینار کےتعارف اور اس کے  انعقاد کےمقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہسر سید تحریک دواعتبار سے ہماری اجتماعی یادداشت کا بڑا اور بامعنی حوالہ ہے۔ ایک تو یہ کہ سر سید نے جس طرز حیات کو رواج دینے اور اس کی نشوو پرداخت میں سہولت بہم پہنچائی اس کے نتیجے میں میں بحیثیت ایک عورت کے آج اس قابل ہوئی ہوں کہ اس پنڈال میں کھڑے ہو کر خودسرسید ہی کےافکار و محرکات اور ان کے نتائج پر بحث کر سکوں، ان کا محاکمہ کر سکوں اور ان کے ثمرات و اثرات پر اپنی رائے دیکھ سکوںاس حوالے سے میں اپنی تمام تر فکری کاوشوں اور ذہنی لذتوں کے لیے سر سید کی ممنون احسان اور قرض دار ہوں۔ سرسید کی یاد گیری کا دوسرا حوالہ یہ ہے کہ انھوں نے برصغیر کی ایک بڑی  مگر دم توڑتی، قریب المرگ تہذیب کو وہ آخری نشتر لگایا جس کے بعد رات بھر کے جاگے ہمیشہ کی نیند سو جاتے ہیں۔ اس آخری نشتر کا گھاؤ کھائے اب ڈیڑھ سو برس ہو چکے ہیں۔ ان ڈیڑھ سو برسوں میں وہ متبادل تہذیب اس خطے میں خوب برگ وبار لا چکی ہے جسےاختیار کرنے اور تقویت دینے میں سر سید نے اپنی عمر عزیز صرف کر دی۔  اب وقت آ چکا ہے کہ ہم کچھ دیر ٹھہر کر پیچھے مڑ کر دیکھیں اور یہ سوال اٹھائیں کہ قبلے کی تبدیلی کے اس عمل میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا ہے۔اس معاملے میں ایک بات مجھے ہمیشہ حیران رکھتی ہے اور وہ یہ کہ جس تہذیبی حاصل کو سرسید کے زیرسایہ حالی نے سنڈاس سے بدتر قرار دیا تھا، اس تہذیب نے نزع کے عالم میں بھی حالی اور سرسید جیسی شخصیات پیدا کیں۔ لیکن جس تہذیب کو اختیار کرنے کی دامے درمے سخنے سفارش کی تھی اس تہذیب میں  مجھ جیسے یک رخے بالشتیے ہی کیوں کثرت سے پیدا ہو رہے ہیں؟ میں تو یہی سمجھ پائی ہوں کہ سرسید نے قوم کے امراض کی جو دوا تجویز کی تھی وہ ایک لائف سیونگ ڈرگ تھی جو صرف ہنگامی حالت میں ہی استعمال ہوتی ہے لیکن ہم نے آزادی کی شفا یابی کے بعد بھی اس کا استعمال جاری رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ذہنی و فکری قوتیں اپنا کام کرنا بھول گئیں۔ ہم نے ہنگامی راستوں کواپنی مستقل گزرگاہ بنا لیا اور اس کے نتیجے میں ایک اور ہنگامی صورت حال پیدا ہو گئی۔ اس نئے ہنگامے سے کیسے نپٹنا ہے؟ پرانی غلطیوں کو نئی غلطیوں سے بدل ڈالنا ہے یا ہمت کرکے کسی بڑے عمل جراحت کا آغاز کرنا ہے۔ محض لباس ہی بدلنا ہے یا ذات کو نئے معنی پہنانے ہیں؟ یہ ہیں وہ سوال جن کے جواب تلاش کرنے کے لیے اس دو روزہ سیمی نار کا اہتمام کیا گیا ہے۔مجھے اطمینان ہی نہیں فخر بھی ہے کہ ہماری قوم کے بہترین دماغ آج اس پنڈال میں موجود ہیں۔مقررین کا تعلق مختلف طبقہ ہاے فکر سے ہے، جن میں سر سید کے حامی بھی ہیں اور ان کے نقاد بھی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سرگرمی نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

اس کے بعد‘‘روشنی کا سفر ’’ کے عنوان سے  ڈاکٹر غلام فریدہ اور محترمہ غزل یعقوب کی تیار کردہ سرسید کی سوانحی ویڈیو چلائی گئی جس میں عہد بہ عہد سر سید کے کارہائے نمایاں کو تصاویر کی مدد سے واضح کیا گیا تھا۔بہ ذریعہ ویڈیو سرسید کی سوانح کا جائزہ لینے کے بعد مہمان خصوصی  اور وزیر اعظم کے مشیر خاص بیرسٹر ظفر اللہ نے سوال اور فلسفے  کی پوری روایت کو دہراتے ہوئےاور سرسید احمد خان کے عمومی پس منظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سرسید برصغیر میں تبدیلی کا ایک معتبر حوالہ ہیں جن کی شخصیت اس قدر پیچیدہ ہے کہ اسے گرفت میں نہیں لایا جا سکتا لہٰذا آپ لوگ ٹھنڈے دماغ سے سوچنا شروع کریں  اور ان کی ہمہ رنگ شخصیت کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کی سعی کریں تا کہ اس جامعہ کے ساتھ دیگر جامعات میں بھی میں سوچنے کا عمل آغازہو سکے ۔تقریب کے دوسرے مہمان خصوصی ڈاکٹر خالد مسعود نے سرسید کے حوالے سے دو باتوں کی طرف توجہ دلائی۔جن میں اول سرسید کے موضوع پر شرم کا پہلو تھا کہ ہم اس پر کھل کر بات نہیں کرتے اور انھوں نے جدیدیت کے ضمن میں جو اصلاحات کیں ان کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں جب کہ دوسرا پہلو سوچ سے متعلق ہے  یعنی جو فکری تبدیلی سرسید کی وجہ سے آئی تھی وہ کہاں گئی اور اس کے حوالے سےآج ہم کس مقام پر کھڑے ہیں ؟

مہمانانِ  خصوصی کے خطابات کے بعد ریکٹر ،بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی،پروفیسر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی جنھوں نے شعبۂ اردو اور آئی ۔آر ۔ڈی ۔ کو سیمینار کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سیمینار کی اس بنا پر ضرورت ہے کہ ہم موجودہ نسل کو سرسید جیسی نابغہ روزگار شخصیت کی کاوشوں اور ان کے پیغام سے آگاہ کر سکیں ۔کیوں کہ سرسید یہ چاہتے تھے کہ ہم جدیدیت کی دنیا کو مکمل طور پر اپنا لیں ۔لہٰذا سرسید کے افکار کی روشنی میں ہی ہم بچوں کو سکھا سکتے ہیں کہ ہماری ترقی اور کامیابی کس چیز میں مضمر ہے ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم سرسید کے ساتھ انصاف نہیں کرسکے جو ہمیں کرنا ہے۔

دوسرے سیشن کے اختتام پر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عزیز ابن الحسن نے تمام مہمانان گرامی کی آمد اور منتظمین  کا شکریہ ادا کیا بعد ازاں ڈاکٹر فاطمہ حسن صاحبہ نے انجمن ترقی اردو سے شائع شدہ ‘‘آثار الصنا دید ’’کی نئی اشاعت بہ طور تحفہ صدر محفل کو پیش کی جس کے بعد تمام مہمانوں  اور مقررین میں نشان سپاس کی تقسیم عمل میں آئی۔

نماز اور ظہرانے کے وقفے کے بعد بیک وقت دو متوازی اجلاس آغاز ہوئے۔قائد اعظم آڈیٹوریم میں منعقد کردہ سیشن کی نظامت ماریہ ترمذی نے اور صدارت کے فرائض  ڈاکٹر معین الدین عقیل نے انجام دیے،مہمانان خصوصی محمد سہیل عمر اور ڈاکٹر محمد اکرام چغتائی قرار پائے جب کہ مقالہ نگاروں میں  ڈاکٹر ضیاء الحسن ،ڈاکٹر عابد سیال اور ڈاکٹر صباحت مشتاق نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر ضیا ء الحسن  نے ‘‘خطبات احمدیہ اور سرسید کی اسلام دشمنی کی اصلیت ’’کو اپنا موضوع بناتے اور سر   سید کے مذہبی نقطہ ٔ نگاہ کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ اس ضمن میں سرسید پر جو الزامات لگائے گئے عملی طور پر ان کی حیثیت کم تھی اور ردعمل زیادہ تھا لیکن ان کی اصل مذہبی فکر کو سمجھنے کے لیے ‘‘خطبات احمدیہ ’’ کا مطالعہ ضروری ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرسید کو حضور اکرم ﷺ سے اتنی ہی محبت تھی جتنی علامہ محمد اقبال کو تھی۔ڈاکٹر عابد سیال نے دور سرسید کی اصناف ادب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ تحریک میں ادب کے موضوعات ،اس کے لسانی پیرائے اور اصناف ادب کی ترجیحات میں اساسی نوعیت کی تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  اس دور میں افسانوی نثر کے بجائے غیر افسانوی نثر کو پذیرائی حاصل ہوئی۔جب کہ ڈاکٹر صباحت مشتاق نے ‘‘فکر سرسید کے ما بعد نو آبادیاتی ادب پر اثرات ’’ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرسید کی فکر کے اثرات ان کے بعد آنے والے زمانے میں تحریر کی جانے والی نثر میں بھی موجود ہیں ۔مقالہ نگاروں کے بعد پہلے مہمان خصوصی محمد سہیل عمر نے سرسید کے مذہبی افکار کو بنیاد بناتے ہوئے وضاحت کی کہ سرسید کے عہد میں جدیدیت یا جدید سائنس کا مطلب ہی یہی تھا کہ جو چیز موجود ہے بس وہی ہے ۔چناں چہ سرسید نے بھی اس کو علی الاعلان قبول کرتے ہوئے خود کو نیچری کہلوانے میں فخر محسوس کیا ۔اسی سبب سے ان کی تحریروں میں جا بجا نیچری ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ دوسرے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد اکرام چغتائی نے  ‘‘سرسید احمد خان او ر علوم مفیدہ’’ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سائنٹفک سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا  تو دیگر کاوشوں کے ساتھ ساتھ اس نے اردو تراجم کے اصول بھی وضع کیے جو زیادہ تر اردو کالج کی سوسائٹی سے اخذ کردہ تھے  لیکن سرسید نے ان میں جدت پیدا کی۔سیشن کے اختتام پر صدر محفل ڈاکٹر معین الدین عقیل تشریف لائے جنھوں نےسیمینار کے حوالے سے شعبۂ اردو کی خد مات کو سراہا اور  سرسید کو حیات و فکر کا ایک انقلابی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرسید نے اپنی تحریک کو جن بنیادوں پر استوار کیا  انھیں مصنف،مصلح اور سیاست دان کے  تین خانوں میں بانٹا جا سکتا ہے اور یہ ساری محنت محض اس وجہ سے تھی کہ وہ اپنی قوم کو دوسری قوموں کے مقابل لا کھڑا کریں اور انھیں اپنے علیحدہ اور مستقل قوم ہونے کا احساس دلاتے ہوئے ایک علیحدہ مملکت کے حصول کی جدوجہد پر مامور کریں۔

متوازی سیشن میں نظامت ڈاکٹر شیراز فضل داد نے اور صدارت کے فرائض ڈاکٹر محمد یوسف خشک نے انجام دیے۔ڈاکٹر فاطمہ حسن اور جناب مبین مرزا مہمانان خصوصی قرار پائے جب کہ جناب رضا نعیم، ڈاکٹر ارشد معراج اور ڈاکٹر شاہدہ رسول نے نے اپنے مقالات پیش کیے۔محترم  رضا نعیم نے ‘‘سرسید احمد خان: ایک پرانے عہد کا جدید مسلمان ’’کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی استعماریت کی مضبوطی اور استحکام کے دور میں سرسید جدید سوچ کے حامل ایک عظیم راہنما بن کر آئے جو سیاسی طور پر قدامت پسند لیکن سماجی طور پر جدت پسند تھےیہی وجہ ہے کہ انھیں بر  صغیر پاک و ہند کی مسلم تہذیب اور معاشرت سے  مکمل آگاہی حاصل تھی۔ڈاکٹر ارشد معراج نے برصغیر کے نو آبادیاتی عہد کے تناظر میں سرسید احمد خان کی آزادی ٔ رائے اور آزادیٔ اظہار کے متعلق اپنا نقطہ نظر واضح کیا ۔جب کہ ڈاکٹر شاہدہ رسول نے سرسید کی مذہبی جہت واضح کرتے ہوئے کہا سرسید جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی مسائل کے حوالے سے بھی وسیع النظر رہے لیکن اسی دور میں دیگر مذہبی رہنماؤں کے ہاں قدیم روایات کی پاس داری نظر آتی ہے۔مقالہ نگاروں کے بعد پہلی مہمان خصوصی ڈاکٹر فاطمہ حسن نے ما بعد نو آبادیاتی تناظر میں سرسید کی مستقبل شناسی کو موضوع بناتے ہوئےکہا کہ سیر سید نہ صرف اپنے عہد میں عملی اور فکری اقدامات اٹھا رہے تھے بل کہ قوم کا مستقبل بھی ان کے پیش نظر تھا  ۔چناں چہ ان کی مستقبل بینی پوری طرح واضح ہو کر دو قومی نظریے کی صورت میں ظاہر ہو کر ثابت ہوئی۔جس کی تکمیل میں سرسید کے ان تربیت یافتہ افراد نے اہم کردار ادا کیا جو آئندہ بھی رہنمائی کے اہل ثابت ہوئے۔دوسرے خصوصی مہمان ڈاکٹر مبین مرزا نے سرسید اور تہذیبی کش مکش پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرسید ہماری تہذیبی کش مکش کی سب سے بلیغ علامت ہیں ۔گزشتہ ڈیڑھ سو برس میں تاریخ کے منطقے میں ہم نے جو سفر کیا ہے اس میں یہ تہذیبی کش مکش ہمارے دوش بدوش رہی ہے ۔ابھی ہم اسے اپنے قومی تناظر میں دیکھ سکتے ہیں ۔اس پہلو سے غور کیا جائے تو ہمارے عہد سے سرسید کا رشتہ زیادہ معنی خیز صورت میں سامنے آتا ہے۔سیشن کے اختتام پر صدر محفل ڈاکٹر یوسف خشک نے سندھ پر علی گڑھ تحریک کے اثرات پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ حسن علی آفندی نے سرسید کے افکار سے متاثر ہو کر ایک سیاسی اور علمی تحریک کا آغاز کیا جس نے سندھ کی سماجی فضا کو انقلابی تبدیلیوں سے ہم کنار کیا یہی تحریک بعد میں تحریک پاکستان پر منتج ہوئی۔

متوازی اجلاس کے بعد مقررین  اور مہمانان گرامی میں نشان سپاس تقسیم کیے گئے جس کے بعد سیشن کا باقاعدہ اختتام ۴:۳۰ بے ہوا۔

سرسید سیمینار منعقدہ 1۔2 نومبر 2017 کے دوسرے دن کا آغاز  10 بجے ہوا پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر صباحت مشتاق اور ڈاکٹر مظہر علی طلعت نے ادا کیے۔ ایم ۔ اے کی طالبہ ثنا تحریم نے تلاوت کی سعادت حاصل کی ۔ ڈاکٹر صباحت مشتاق نے گزشتہ دن کے کامیاب انعقاد پر شعبے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے آج کے دن کا باقاعدہ آغاز کیا ۔اور مہمانان گرامی کو سٹیج پر مدعو کیا گیا اس حصے میں  کرسی صدارت   پرڈاکٹر   نعمان الحق جلوہ افروز ہوئے ۔ ڈاکٹر عقیل عباس جعفری اور ڈاکٹرعارف نوشاہی مہمان خصوصی تھے ۔پہلی مقالہ نگار محترمہ بی بی امینہ تھیں ۔ جن کے مقالے کا عنوان تھا ” سر سید کی لغت زبان اردو: مابعد نو آبادیاتی مطالعہ ” انھوں نے اپنے مقالے میں کہا کہ سر سید کی کثیر الجہاتی شخصیت کی ایک جہت لغت نویسی بھی ہے ۔ انھوں نے “نمونہ لغت زبان اردو” کے عنوان سے لغت ترتیب دی جو  نہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اردو زبان وادب کی ترقی و ترویج کے خواہاں تھے بلکہ اس سے ان کی مابعد نو آبادیاتی فکر کا اظہار ہوتاہے۔

ڈاکٹر کامران کاظمی نے اپنے  مقالے بعنوان “سر سید  کا تصور معاشرت اور جدید نو آبادیات”میں کہا کہ عہد سر سید نو آبادیات کے غلبے کا زمانہ تھا اور سر سید نے اس معاشرے سے مفاہمت کو ضروری سمجھا ۔ آج کا دور بھی قدیم نو آبادیات سے مختلف نہیں ہے اب بھی کسی نہ کسی روپ میں یہ اپنے پنجے گاڑے ہوتے ہیں تصور معاشرت کے حوالے سے سر سید کا خیال ہے دین چھوڑنے سے دنیا نہیں جاتی مگر دنیا چھوڑنے سے دین جاتا ہے ۔ جدید عہد میں جو سب سے بڑی کشمکش پائی جاتی ہے اس کا تعلق بھی مذہبی معاملات سے ہے اس میں انھوں نے سر سید کے افکار کا جدید عہد پر اثرات کو بیان کیا ہے ۔

ڈاکٹر سائرہ  بتول کے مقالے کا عنوان سر سید احمد خان کے تصوراتِ تعلیم کا مابعد نوآبادیاتی مطالعہ ہے۔ اس میں انھوں نے  سر سید کے تعلیمی نظریات کا اطلاق جدید عہد کے تعلیمی  نظام پر کرتے ہو ایک طرف تو سائنسی ترقی  کی نشاندہی کی  تو دوسری طرف سرسید  کے جدید افکار کو روشن خیالی  کے پردے میں الحاد کو پروان چڑھانے کا موجب قرار دیا۔ انھوں نے اس مقالے میں سرسید کے تعلیمی نظریات کو ما بعد نو آبادیاتی عہد میں کے تناظر میں  کیا ہے۔

ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے مقالے کا عنوان تھا ” افکار سر سید کے تناظر میں تعلیم نسواں کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ ” انھوں نے اپنے مقالے میں کہا کہ ویسے تو سرسید کو علم کے پیامبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے لیکن عورت اور مرد کے لیے علم کی تخصیص افکار سرسید کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیتی ہے ۔ سر سید احمد خان کے کئی ساتھیوں نے بھی تعلیم نسواں کا معیار بلند کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں سر سید کی طرف سے تائید حاصل نہ ہو سکی ۔ اس کے بعد ڈاکٹر عزیز ابن الحسن نے اپنے مقالے “جدید مطالعہ سرسید میں قبل نو آبادیاتی فکری تناظر کے احیا کے امکانات و خدشات ” میں کہا کہ آج کے مابعد نو آبادیاتی مطالعات میں اس گمشدہ فکری تناظر کے تعین کی اول تو ضرورت نہیں سمجھی جاتی اگر ضرورت  سمجھی جائے تو اس کا صحیح ادراک نہیں ہوتا اور اگر درست ادراک ہو جائے تو اس منہدم تصور حیات و کائنات کو اس کی اصلی صورت میں زندہ و بحال کرنے اور علوم افکار ، تعلیم و تمدن ، ادب و فنون اور تمام انفرادی و اجتماعی اداروں میں اسے جاری  وساری کرنے کا عزم نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لیے نو آبادیات کے شکار عوام اور مابعد نوآبادیاتی علوم کے ماہرین کے لیے جو اپنی تعلیمی تربیت کی وجہ سے کچھ خاص ذہنی و فکری عادتوں اور غذاؤں کے اسیر ہو چکے ہیں ان سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہے ۔ اس نکتے کی روشنی میں خود سر سید اور فکری تعلیمی و ادبی میدان میں ان کے براہ راست یا بالواسطہ تربیت یافتگان کے بہت سے افکار و نظریات کو بھی اب خواہی نہ خواہی چھوڑنا پڑے گا۔ ڈاکٹر خالد سنجرانی نے ” سر سید احمد خان : تصور پدر حیات جاوید کی روشنی میں ” نے حیات جاوید کی روشنی میں تصور پدر کا نفسیاتی تجزیہ کیا اور بتایا کہ سر سید احمد خان کی شخصیت سے جڑا ہوا یہ تصور انفرادی اور اجتماعی سطح پر نو آبادیاتی عہد کا مضبوط تشخص بن کر سامنے آیا۔عقیل عباس جعفری نے اپنے مقالے میں کہا کہ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سرسید احمد خان نے جو ایک الگ مملکت کا خواب دیکھا “کیا پاکستان سرسید کے خواب کی تعبیرہے؟” سر سید احمد خان نے دو قومی نظریے کی بنیاد رکھی جس کے بعد برِصغیر کے دیگر اکابرین نے بھی ہندوستان میں ایک مسلم مملکت کے قیام کے لیے جدوجہد کی جس کے نتیجے میں جس پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔کیا یہ وہی پاکستان ہے؟  اس سوال کے ساتھ انھوں نے مقالے کا اختتام کیا ۔

ڈاکٹر عارف نوشاہی صاحب کےمطابق ہماری تہذیب میں سرسید کا بہت حصہ ہے،وہ  کہتے ہیں کہ میں خود خاص سر سید کے لیے دو بار علی گڑھ جاچکا ہوں۔ سر سید سیمینار کا موضوع کچھ اور ہے۔ سر سید علی خان کی خدمات فارسی زبان کے حوالے سے بھی قابلِ قدر ہیں۔ انھوں نے تصحیح یا تدوینِ متن کے حوالے سے فارسی کی بہت خدمت کی ہے۔ اس ضمن میں ان کی مرتبہ دو کتابیں “تزکِ جہانگیری” اور “آئینِ اکبری” قابلِ ذکر ہیں، جن کے  انھوں نے حواشی بھی شا مل کیے ہیں۔

سر سید احمد خان سے قبل باقاعدہ تدوین موجود نہیں تھی۔ اردو میں اولین تدوین سر سید احمد خان  نے ان دو کتابوں کی کی ہے ۔سرسید کی شاعری کے فارسی نمونے بھی ملتے ہیں  ان کے چند ایک مکاتیب بھی فارسی میں موجود ہیں ۔سرسید کے نانا فریدالدین نے فارسی میں جیومیٹری کے موضوع پر ایک مقالہ بھی نکالا تھا ۔ ہمیں ان کی فارسی کی خدمات کو بھولنا نہیں چاہیے۔ صدر محفل  ڈاکٹر نعمان الحق نے اپنے مقالے میں کہا کہ  مطالعہ سر سید کے دوران سرسید کے دینی اور تعلیمی نظریات سے الگ کر دیا تھا ۔ اسے ان کی حیثیت میں فرق پڑا۔ حالانکہ سرسید نے اپنے مضامین کے ذریعے مسلمانوں میں  عزت نفس  پیدا کی ۔ ان کے ان احسانات کو فراموش کرنا بڑی بد نصیبی ہو گی ۔

دوسرے دن کے دوسرے سیشن کا آغاز  12:30 پر ہوا ۔ اس سیشن میں نظامت  کے فرائض ڈاکٹر جمیل اصغر جامی صاحب نے انجام دیے ۔ صدر محفل جناب افتخار عارف تھے۔ جبکہ مہمان خصوصی ڈاکٹر معین الدین عقیل تھے۔کلیدی خطبہ جناب ڈاکٹر احمد جاوید صاحب نے دیا۔  سب سے پہلے جناب معین الدین عقیل صاحب کو دعوت دی گئی کہ وہ افتتاحی کلمات کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔ عقیل صاحب نے شعبہ اردو ، بالخصوص ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ کی کوششوں کو سراہا کہ انھوں نے اتنا کامیاب سیمینار منعقد کیا ۔  انھوں نے مزید کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم احمد جاوید صاحب کے کلیدی خطبے سے لطف اندوز ہوں گے۔ بر صغیر میں جس قدر بھی فکری کام ہوئے ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امید ہے کہ سر سید کے عنوان سے جو کلیدی خطبہ سننے کو ملے گا اس سے فکر و نطر کے کئی پہلو سامنے آئیں گے ۔ اس کے بعد جاوید احمد صاحب اپنے کلیدی خطبے کے لیے تشریف لائے ۔ انھوں نے ڈاکٹر نجیبہ عارف ، شعبہ اردو اور آئی ۔ آر ۔ ڈی کےکردار کو سراہتے ہوئے سرسید کے موضوع پر منعقدہ سیمینار اور اس میں پڑھے گئے مقالات کو معیاری قرار دیا۔  سرسید کےحوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نو آبادیاتی تسلط سے پہلے ہی برصغیر میں مسلم تہذیب،تاریخ کی حرکیات سے بے نیازی اور بےگانگی اختیار کر چکی تھی ۔ اس کے بنیادی تصورات چند بے لچک ، مظاہر تک محدود ہو کر مبنی بر اصول تبدیلی سے ایک فعال اور خلاق تعلق استوار کرنے کی قوت سے بڑی حد تک خالی ہو چکے تھے ۔ سر سید نے اس ہمہ گیر تہذیبی تعطل اور جمود کو توڑنے کے لیے تاریخی شعور کی بیداری کو اپنا مقصود بنا کر فطرت اور تاریخ کے تناظر سے ہند اسلامی تہذیب کے تمام ہی اصول و مطاہر پر تنقیدی نظر ڈالنے کی اس روایت کا آغاز کیا جس کا بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ انسانی تہذیب اور اس کے اداروں کی تشکیل نو ضروری ہے، اور یہ عمل مغرب کو حتمی مان کر ہی ممکن ہے ۔ اس پہلو سے سر سید کو جنوبی ایشیا میں نئی مابعد استعماریت کا بانی کہا جا سکتا ہے ۔ لہذا اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے اور اپنی موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے بھی سر سید کو حوالہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ جو حیثیت افلاطون کو فلسفے میں حاصل ہے وہی حیثیت جنوبی ایشیا میں سرسید کی ہے ۔ اب جو بھی کام کیا جائے گا وہ یا تو ان سے اختلاف کر کے کیا جائے گا یا ان کی اتباع میں کیا جائے گا ۔ سرسید کی اثر اندازی  ہمہ گیرہے ۔ جس نے ایک امتیازی شان پیدا کی ہے۔ ان کی اثر اندازی یہ ہے کہ انھوں نے جو کام کیا ہے اس میں تو ان کے اثرات موجود ہیں لیکن جن جہات پر وہ کام نہیں کر سکے وہ بھی ان سے متاثر ہوئی ہیں ۔

آج کے دن کا اختتامی اجلاس 2:30 سے 4:30 منعقد ہوا ۔ جس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر کامران کاظمی نے ادا کیے ۔اقرا اشفاق نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی ۔اس میں  استقبالیہ کلمات ڈاکٹر حسن الامین نے ادا کیے۔  انھوں نے سب سے پہلے تمام حاضرین کا اس سیمینار میں نےپر شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ یہ ایسا پروگرام تھا جس میں ملک بھر سے تمام لوگ آ ئے تھے اور سب نے پرامن گفتگوکی ۔ اس سیمینار کی بدولت ایک صحت مند مکالمے کو فروغ حاصل کیا ۔ ٓآخر میں سب کا دوبارہ شکریہ۔ ڈاکٹر کامران کاظمی نے تمام مندوبین کو دعوت دی کہ وہ اس سیمینار کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کریں ۔ سب سے پہلے مبین مرزا صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ایسے سیمینار اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں سب کو آزادئ رائے حاصل ہے ۔  مبارکباد کے مستحق ہیں وہ لوگ جنھوں نے اس پروگرام کا نہ صرف سوچا بلکہ اتنا اچھا انعقاد بھی کیا ۔ ڈاکٹرنجیب جمال نے کہا کہ جتنے شرکا یہاں آئے اور انھوں نے جتنی گفتگو کی وہ بہت معلوماتی اور عمدہ تھی۔ بہت سے ایسے موضوعات تھے جن سے اختلا ف بھی کیا جا سکتا تھا، مگر سب نے تحمل اور سکون سے ان سب کو سنا ۔یہی بات ایک صحت مند مکالمے کوفروغ دیتی ہے ۔انھوں نے ایک سرسید چیئر قائم کرنے پر بھی زور دیا۔ محترمہ فاطمہ حسن صاحبہ نے اپنے تاثرات میں کہا کہ میں سب کو مبارکباد دیتی ہوں کہ اتنی کامیاب سیمینار منعقد کیا۔ یہ ایک اچھی روایت ہے اسے قائم رہنا چاہیئے۔سرسید چئیر کے قائم کرنے کی تجویز اچھی ہے اس پر عمل ہونا چاہیئے۔ ڈاکٹر محمد سہیل عمر نے کہا کہ اس سیمینار نے فکر کا ایک دریچہ کھولا ہے جہاں سے نئے سوالات کا آغاز ہوا ۔ ایسے سلسلوں کو جاری رہنا چاہیئے۔ محترم نعیم رضا نے اپنے تاثرات میں کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ ایک طالب علم ہونے کے باوجود مجھے اس کانفرنس میں بلایا اور یہ اتنی اچھی کانفرنس ہے کہ اس کے مقابلے میں دوسری کانفرنسیں ہیچ معلوم ہوتی ہیں ۔ ایسی کانفرنسیں جاری رہنا چاہیئے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ یہاں بیان کیا جا رہا ہے وہ ہم سب کے تاثرات ہیں کانفرنسیں بہت ہیں لیکن ان کے پیچھے جو مقاصد کارفرما ہوتا ہے ۔ وہ اہم ہوتا ہے ۔ کسی کانفرنس کی سب سے بڑی کامیابی اس میں پڑھے جانے والے مقالے ہوتے ہیں ۔ یہ کانفرنس اس لحاظ سے کامیاب ہے کہ اس میں پڑھے جانے والے تمام مقالات کے موضوعات نئے تھے ۔ شعبہ اردو کو ایسے پروگرام جاری رکھنے چاہیئے۔

پروگرام کی مناسبت سے ڈاکٹر عزیز ابن الحسن نے  شعبہ اردو کی طرف سے دو  سفارشات پیش کیں ۔پہلی یہ  کہ اردو کو یونی ورسٹی کی انتظامی و دفتری زبان بنایا جائے  اور دوسری یہ کہ شعبہ ٔاردو میں سرسید چیئر قائم کی جائے ۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانفرنس  کے کامیاب انعقاد پر سب کو مبارک ہو ۔ اس سیمینار میں بہت عمدہ مقالے پڑھے گئے اور اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے صدر جامعہ بھی مباکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے یہ موقع فراہم کیا  ۔صدر جامعہ پروفیسرڈاکٹر احمد یوسف الدرویش  نے   معین الدین عقیل صاحب ،محترم نجیب جمال ،محترمہ فاطمہ حسن ، محترمہ حمیرا اشفاق صاحبہ اور بالخصوص  ڈاکٹر شاہد صدیقی  کا شکریہ ادا کیا کہ وہ سیمی نار کے تمام معاملات میں موجود رہے انھوں نے  ڈاکٹر حسن الامین ،ڈائریکٹر آئی۔ آر۔ ڈی  اور شعبہ اردو کے کردار کو سراہا   کہ انھوں نے اتنا وقیع کام کیا  اور سیمی نار کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ۔انھوں نے تعلیمی اور سماجی لحاظ سے سرسید کے کارہاے نمایاں پر روشنی ڈالی   اور ایک قوم کی تشکیل میں ان کے کردار کو واضح کیا۔سیمی نار میں سرسید چیئر کے حوالے سے جو تجویز پیش کی گئ تھی صدر جامعہ نے اس پر غور کرتے ہوئے بورڈ آف گورنر ز اور ایچ۔ ای ۔ سی کے اجلاسوں میں اس کے متعلق بات کرنے کی یقین دہانی کروائی اور اس سلسلے میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔

روز اول کی  شام اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ  اینڈ ڈائیلاگ کے زیراہتمام مہمانان گرامی کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا ۔ جس میں صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش کو بطور خاص دعوت دی گئی  جب کہ ڈین کلیۂ زبان و ادب ڈاکٹر منور گوندل بھی اس موقع پر موجود تھے۔ عشائیہ سے پہلے صدر جامعہ نے سیمی نار کے لیے مختلف شہروں سے تشریف لانے والے مہمانان گرامی سے فرداََ فرداَ َملاقات کی اور کہا کہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایسے اکابرین موجود ہیں جنھوں نے نہ صرف اپنے ادوار کو متاثر کیا بلکہ بعد میں آنے والے عہد پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے ۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم ایسے کرداروں سے واقف نہیں ہو پاتے ۔ لہٰذا اس سیمی نار کا انعقاد کرنے کے لیے شعبہ اردو اور آئی۔ آر ۔ ڈی کے ڈائریکٹر حسن الامین اور ان کے ماتحت مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ہمارے اسلاف کے کارناموں پر نظر ثانی کرتے ہوئے تاریخ کے ایک ایسے کردار اور اس کی تعلیمی اور سماجی کوششوں کو سامنے لانے کی سعی ہے ۔ جس سے واقف ہونے کی اشد ضرورت ہے۔

 

4 comments on ““دوروزہ سیمی نار”مطالعۂ سرسید:مابعد نوآبادیاتی جہات

  1. Content here, content here’, making it look like readable English. Many desktop publishing packages and web page editors now use Lorem Ipsum as their default model text, and a search

  2. Which in turn led to the creation of a wide range of review, recommendation, and curation sources, including blogs, magazines, and dedicated online app-discovery services.

  3. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X