پشتون مرد

600.00

Author: Dr. Aamir Jamal

ISBN: 978-969-7576-61-6

Year of Publication: 2019

Number of Pages: 272

Description

پشتون مرد

لڑکیوں کی تعلیم اور صنفی انصاف

ڈاکٹرعامرجمال

 

یہ کتاب  بنیادی طور پر میری پی ایچ ڈی کی تحقیق پر مبنی ہے۔ تحقیقاتی طریقہ کار ہر باب میں مختصر طور پر بیان کیا گیا  ہے تاکہ ہر ایک اس کوالگ الگ  پڑھ اورسمجھ سکے۔اس طریقۂ کار کو ہر باب میں استعمال کرنے کی وجہ سے خیالات کا ایک معمولی تکرار بھی شامل ہے۔ یہ تکرار مرکزی خیال، موضوع اور توجہ کو بڑھانے کے لیےہے لیکن اس کا اطلاق مختلف تجزیاتی تناظر میں ہوتا ہے۔  یادرہے کہ کتاب کے کئی باب  مختلف بین الاقوامی تحقیقی جرائد  میں شائع درج ذیل علمی مضامین کی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔

عامر جمال، ”وہ اپنی بیٹی کو سکول کیوں نہیں بھیجنا چاہتا: شمال مغرب پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں: پشتون مردوں کے بارے میں ایک تاثراتی ڈیلفی مطالعہ،“۔

SAGE Open 6, no. 3 (2017). Retrieved from http://sgo.sagepub.com/content/6/3/2158244016663798

عامر جمال، ”غیر سرکاری تنظیموں ، شراکتی ترقی اور شناخت کی تعمیر: جنوبی ایشیا میں صنفی اور ڈویلپمنٹ کے پروگراموں میں مرد حضرات  کی شمولیت“  ورلڈ جرنل آف سوشل سائنس 1، نمبر. 2 (2014)۔

عامر جمال اور کلائیو بالڈن، “رحم کے فرشتے یامسکراتے مغربی حملہ آور؟ شمالی پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں کمیونٹی کےخیالات۔ “انٹرنیشنل سوشل ورک (2017)”۔

http://journals.sagepub.com/doi/10.1177/0020872817711239

عامر جمال، ” صنفی انصاف کے قیام کے لیے مرد حضرات کا کردار: شمال مغرب پاکستان میں پشتون قبائل میں لڑکیوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں کاخاتمہ،” انٹرنیشنل جرنل آف سوشل ویلفیئر 24، نمبر 2. 3 (2015): 273-286۔

میرے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ میں اس اہم کتاب ’’پشتون مرد:لڑکیوں کی تعلیم اور صنفی انصاف‘‘ کا پیش لفظ لکھ رہی ہوں۔یہ کتاب پہلے صفحے سےہی پاکستان کے پشتون علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم دینےکے حوالے سے  موجود  چیلنجزپر گفتگو کرتی ہے اور اس محبت  کو بیان کرتی ہے جس کے ساتھ ڈاکٹر عامر جمال نے اپنے موضوع پر گفتگو کی ہے۔ مصنف کے تجربے کی کہانیاں، ایک لڑکے کے طور پر، اس کی اپنی والدہ کے بطور استاداثرات اور لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں عزم بہت اثر انگیز ہے اوروہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ایک آدمی فوری جان جاتا ہے  کہ یہ کتاب دو اہم اجزاء پر مشتمل ہے۔ سب سے پہلے ڈاکٹر جمال  خود پشتون ثقافت کا ایک حصہ ہیں  اور دوسرا یہ کہ  انہوں نے ایک اہم تحقیق کی ہے جس میں لڑکیوں کی تعلیم میں درپیش رکاوٹوں کو سمجھنے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے بارے میں ٹھوس تجاویز شامل  ہیں۔جیسا کہ ڈاکٹر جمال نوٹ کرتے ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم دینا پرامن اور پائیدار کمیونٹی کی تعمیر کے لیے سب سےاہم و زیادہ مؤثر ذریعہ ہے۔ مائیں اپنے بچوں کے پہلے استاد کے طور پرمعاشرے کی ترقی کے لیے بہت کچھ کر سکتی ہیں مگر تب جب  انہیں پہلے خود تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دیے جائیں۔

یہ کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں  ڈاکٹر جمال ایک تاثراتی سوشل ریسرچ (Qualitative Research)   کا طریقہ استعمال کرتے ہیں  تاکہ وہ  یہ جان سکیں کہ مرد اپنی بیٹیوں کے لیے تعلیم کی راہ میں کیا رکاوٹیں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کمیونٹی اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ علماء، سرکاری حکام اور صنفی ترقی کے ماہرین کوبھی اس مطالعہ میں شامل کیا ہے۔ خاص طور پر تحقیق کے سوالات نے شرکاء تحقیق  کے تجربات اور ان کی فکر کو متوجہ کیا ہے۔ اس قسم کی تحقیق، ریسرچ کے شرکاء کے خیالات کو اہمیت دینا ہمیں یہ دیکھنے کی اجازت دیتا ہے کہ ان کے نزدیک اہم معاملہ کیا ہے۔ اس مطالعہ میں غیر متوقع نتائج تلاش کرنے کے لیےممکنہ صلاحیت موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں کے احترام کا اظہار کرتا ہے جو بات چیت میں حصہ لیتے ہیں۔ اس تحقیق کے کچھ پہلو مغربی دنیا میں بھی خواتین کے حقوق اور گھریلو تشدد جیسے مسائل میں مردوں کو شامل کرنے کے طریق کار میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ تحقیق اور تجاویزمغربی معاشروں میں بھی خواتین کے حقوق اور مسائل جیسے کہ گھریلو تشدد وغیرہ کے روکنے میں بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر جمال نے پشتون ثقافت میں خواتین کے کردار کے بارے میں ایک جدید تفہیم پیش کی ہے جو عام طور پر  ہمیں مسلمانوں میں اوردنیا کی دیگر کمیونٹیوں میں خواتین کے کردار کے بارے میں گفتگو کے دوران نہیں ملتی۔  پشتون خواتین اگرچہ کئی لحاظ سے مردوں سے بہت مختلف ہیں، ماؤں کی حیثیت سے وہ ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ڈاکٹر جمال نے پشتون خواتین کی نمائندگی اور اپنے خاندان کے تناظر میں ان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ مغرب کے ماہرین اکثر یہ کہتے ہیں کہ جب خواتین  مائیں بنتی ہیں تو اپنی طاقت سے محروم ہوجاتی ہیں۔مگر  پشتون ثقافت میں خواتین ماں کے طور پر ایک اہم حیثیت رکھتی ہیں ۔ یہ معلوماتی بحث بہت خوش آئند ہے کیونکہ یہ اس نسلی تعصب  کے آئینہ کوبھی توڑتی ہے جس کے ذریعہ مغربی سکالرز خواتین اور مردوں کے درمیان تعلق کی غیر مغربی سیاق و سباق میں تشریح کرتے ہیں۔

اس بات کو تسلیم کرناکہ اسلام لڑکیوں کی تعلیم کو محدود نہیں کرتا اورخواتین کو برابری کی حیثیت دیتاہے، صنفی  انصاف کے راستے پرچلنے کے لیے  ایک بنیادی قدم ہےاور  اس عمل میں مردوں کو شامل کرنے اور لڑکیوں کے لیے تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔  ڈاکٹر جمال ایک مثال پیش کرتے ہیں  کہ مردوں خاص طور پر بزرگ اور مذہبی رہنماؤں سے کیسے رابطہ کیا جائےتاکہ انہیں اپنا اتحادی بنایا جاسکے۔اس کاوش میں مرد حضرات  کو اپنا مدمقابل  سمجھنے کی بجائےانہیں اپنا ہم سفر بنانے کے زیادہ فوائد ہیں۔

یہ کتاب لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے جس کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ یہ اس بات کا احساس پیدا کرتی ہے کہ لڑکیوں کی حفاظت کے لیے ناکافی  نقل و حمل کا مسئلہ  کتنی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ تب ہی سکول جانے کےقابل ہو سکیں گی۔ ناکافی سہولیات جیسے ٹوائلٹ ، حفظان صحت، پینے کا پانی، فرنیچر  اور خواتین اساتذہ کی قلت لڑکیوں کو سکول میں جانے سے محروم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ سکولوں میں ایسا مغربی نصاب ہے جو  مذہبی نظریات ، مقامی ثقافت اور ضروریات کو نظر انداز کرتا ہے ،ان پہلوؤں پر توجہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔

اس کے بجائے صرف اس بات پراصرار کرنا  کہ مرد اپنے رویے میں تبدیلی لائے، ڈاکٹر جمال نےایک ایسے  نقطہ نظر کی نشاندہی کی ہے تاکہ مردحضرات کے لیے آسان ہو جائے کہ وہ  اپنی بیٹیوں کو اسکول میں داخل ہونے کی اجازت دے سکیں۔ مثال کے طور پرحفاظتی دیواروں کی تعمیر، مردوں کےپردہ سے متعلق  خدشات کو کم کرنے کے لیے ایک بہترین  حکمت عملی ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کے مناسب ہائی اسکول، اچھا نقل و حمل، اور بہترین خاتون اساتذہ کی تعیناتی بنیادی  اقدامات ہیں۔

ڈاکٹر جمال اس کتاب کو متاثر کن اور مثبت کہانیوں کے ساتھ اختتام تک پہنچاتے ہیں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبدیلی کی حمایت کرنے والے حتیٰ کہ  چند انصاف پسند  مردوں کے افعال بھی بڑے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ایسے بہادر افراد کے بظاہر چھوٹے چھوٹے اقدامات معاشرے کو مثبت تبدیلی کی طرف گامزن کرتے ہیں۔

      میرے لیے یہ  ایک بہترین موقع تھا کہ میں ایک چھوٹے گروہ کے اثرات کا براہ راست مشاہدہ کر سکوں ۔ڈاکٹر عامر جمال نے پاکستان میں بچوں کی تعلیم کے لئے کینیڈین ایسوسی ایشن (CACEP) کی مدد کرنے کے لیے ہمیں مدعو کیا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ہم پاکستان میں لڑکیوں اور یتیم بچیوں  کی تعلیم کے لیے معاونت کررہے ہیں۔ 2018 تک ہم 49 بچوں کی تعلیم کے لیے تعاون کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ تنظیم کے زیادہ تر سپانسرز کینیڈا میں رہتے ہیں لیکن تنظیم کو پاکستان کے اندرسے  بہت سے اسپانسر اور حامی مل گئے ہیں جو اس بات کی علامت ہےکہ صنفی انصاف کے فروغ کے لیے  مردحضرات کو شامل کرنے کے لیے امکانات موجود ہیں، جب وہ اس تنظیم پر یقین رکھیں گے جو لڑکیوں کو اسکول میں داخل کرنے کے لیے وسائل فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ہمارے پروگرام کے شرکاء ایک خاندان کی طرح ہیں اور بچوں کی کامیابیاں  مستقبل میں اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔

ڈاکٹر عامر جمال کی کتاب صنفی انصاف اور لڑکیوں کی تعلیم کے اس اہم چیلنج کی پیچیدگیوں کو واضح کرتی ہے ۔ یہ  نہ صرف ایک تجزیہ ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک لائحہ عمل بھی ہے۔

Deborah K. van den Hoonaard, PhDCanada Research Chair in Qualitative Research and Analysis, 2006-2016.Social-Science Editor, Canadian Journal on Aging/La Revue canadienne du vieillissement.Recipient of the George Herbert Mead Award for Lifetime Achievement, Society for the Study of Symbolic Interaction, 2017.

تقریظ 

عامر جمال کی کتاب ’’پشتون مرد:لڑکیوں کی تعلیم اور صنفی انصاف ‘‘پاکستان میں لڑکیوں کے لیے سماجی انصاف کے حصول کے طریقہ  کار پیش کرنے میں واضح طور پر ایک  بڑا حوالہ قرار دی جا سکتی  ہے۔ یہ کتاب  عالمی ترقی کے مضمون پرمصنف کے اپنے مقالہ  کی تکمیل اور توسیع ہے جو یونیورسٹی آف کیلگری میں مکمل کیا گیا ۔ پشتون قبیلوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی مردوں پر  تحقیق کرنے کے بعد مصنف یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ مردپشتون معاشرے کےمحافظ اور رکھوالےسمجھے جاتے  ہیں۔ ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان کے سماجی و معاشی، ثقافتی، مذہبی وروایتی اداروں کو متعلقہ پالیسیوں اور ضابطوں کے مطابق چلائیں، انہیں بہتر بنائیں یا سرے سے ہی ختم کردیں۔ عامر جمال کی اس تفصیلی تحقیق سےایسی وسیع طاقت رکھنے والے مراکز کے علاوہ ایسے اہم عوامل  بھی سامنے آئے ہیں جو پاکستان میں لڑکیوں اور خواتین کے لیے تعلیم تک  رسائی  اور انہیں مردوں کے مساوی  مواقع دینے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ 

عامر جمال ابتدا میں واضح کرتے ہیں کہ سابقہ تحقیق اپنے موضوع کے اعتبار سے  محدود تھی۔جبکہ  زیرِنظر تحقیق اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج اور سماجی ترقیاتی پروگراموں میں زیادہ ترپاکستانی خواتین اور لڑکیوں کے استحصال پر توجہ دی گئی ہے۔ مصنف اس بات پر مصر ہیں کہ سماجی و تعلیمی ترقی پر مناسب توجہ نہیں دی جارہی کیوں کہ معاشرے کے  اہم عناصر کے رویوں اور آراء کو عموماً سماجی تبدیلی کی پالیسیوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔ محقق نے ایک متبادل تناظر پیش کرتے ہوئے بہت سے روایتی مغربی و تعلیمی ترقی کے بیانیوں کو رَد کیا ہے۔

عامر جمال کی کتاب کی خوبیاں درج ذیل نکات میں پوشیدہ ہیں لیکن یہ صرف انہی تک محدود نہیں ہیں۔

اول: کتاب میں ایک سماج کی پختہ روایات اور پیچیدگی کو پیش کیا گیا ہے جو حسبِ مراتب کے نظام کے تحت آپس میں منسلک ہیں۔بدقسمتی سے اس طرح کی روایات نے پاکستانی لڑکیوں کی اکثریت کو تعلیم سے دور رکھا ہے۔

دوم: کتاب میں خوش بیانی  اور فصاحت سےایسی  بہت سی تجاویز دی گئی ہیں اور پھران کا جائزہ لیا گیا ہے جو مصنف کے اپنے علاقے کے بارے میں علم اور قابلِ توجہ تجربات کے علاوہ تجدید شدہ ڈیلفی تحقیق کے تحقیق کے شرکاء کی آراءاور انٹرویوز سے سامنے آئی ہیں۔

سوم: مکالماتی اور اتفاقِ رائے پر مبنی تحقیقی ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے مرد تحقیق کے شرکاء (جو مختلف پشتون طبقات سےتعلق رکھتے  ہیں) نےمصنف کی رہنمائی سے لڑکیوں کی تعلیم کے حصول میں درپیش مسائل کو جانچنے اور انھیں حل کرنے کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے بھرپور کام کیا۔

  • کتاب میں پیش کی گئی حکمتِ عملی اورتجاویز درج ذیل ہیں

الف: لوگوں کی بھرپور حمایت حاصل کرنے کے لیےمکالمہ کا آغاز کیا جائے،مثال کے طورپر قبائلی عمائدین کی کونسل اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ جو بعدازاں اپنی اپنی کمیونٹی میں کام کریں گے۔

ب: سرکاری تعلیم، ابلاغیاتی نظا م جیسا کہ مقامی میڈیا، مذہبی و سیکولرتہواراور سرگرمیاں وغیرہ کو زیادہ سے زیادہ اس آگاہی مہم کے لیے استعمال میں لایا جائے، سرکاری تعلیم کے تمام منصوبوں کو اس نہج پر لایا  جائے جو مردوں کوخواتین کی تعلیم کی اہمیت کے بارے میں تعلیم اور آگاہی فراہم کریں۔

ت:  موبا  ئل سکول قائم کیے جائیں اور پرائمری اور ہائی سکول کی سطح پر لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع بڑھائے جائیں۔

ج: ایک قابل غور تجویز یہ ہے مذہبی اداروں(مساجدومدارس) کے مثبت کردار اور ان کی صلاحیت اور کردار کو بڑھایا ہے، جس کے باعث مذہبی رہنماخواتین کی تعلیم کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے فعال انداز سے رکاوٹیں ختم کرنے میں معاونت کریں گے۔

ڈاکٹر عامر جمال اپنی اس تحقیق کے ذریعے علمی قابلیت،علاقائی معلومات اور اپنےتجرباتی علم کو سامنے لائےہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا یہ علم خود تک محدود نہیں رکھا ( تحقیق، تدریس اور خدمات کے نتائج) بلکہ  اسے فیلڈ میں بھی عملی جامہ پہنایا ہے۔ مثال کے طورپر کئی برس قبل انہوں نے اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر ایک فاؤنڈیشن قائم کی اور صنفی انصاف کی جدوجہد میں مردوں کو شامل کیا اورخیبرپختونخواہ میں  جنگ سے متاثرہ اور شورش زدہ علاقوں کی یتیم لڑکیوں کے لیے روایتی  تعلیم کے  مواقع پیدا کیے۔عامر جمال کی یہ کتاب اس حوالے سے  ایک اہم کوشش ہے کہ وہ پاکستان میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔ وہ  پشتون مردوں پر یہ زور دیتے  ہیں کہ وہ تبدیلی کے آلۂ کار بنیں تاکہ لڑکیوں کی آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر بن سکے۔ اس جدوجہد میں شامل مردحضرات لڑکیوں اور خواتین کے معیار  زندگی کو بہتر بنائیں گے۔ عہدِ حاضر کی مصیبت زدہ  دنیا میں عامر جمال کی کتاب امید کی ایک کرن ہے۔

Cecille Marie De Pass, PhD, CalgaryAssociate Professor Emeritus, University of Calgary (2015),Recipient, Farquharson Institute for Public Affairs, Kingston, Jamaica, Centennial Award (2018),Recipient, Comparative and International Education Society of Canada, David Wilson Award for Excellence (2015).Former Chair/ President, Educational Sectoral Commission, CC-UNESC.

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “پشتون مرد”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X