جامعہ  کشمیر میں علماء  وخطباء وائمہ حضرات کے ساتھ 4دن

کیاوجہ ہے کہ لوگ نمازِجمعہ اورعیدین سے پانچ منٹ قبل مساجدمیں جاتے ہیں؟  ڈاکٹرکلیم عباسی

پوری دنیا کانظام معیشت بدترین قسم کے سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت میں ہے۔ کمیونزم نے بھی وہی چلن اپنالیے  ہیں۔ الٰہی اقتصادی نظام کی ضرورت ہے

                         ڈاکٹرنثارہمدانی

خطبات کے موضوعات عصرِ حاضر سے مطابق نہیں رکھتے فرقہ واریت اورتنگ نظری نے معاشرے میں علماء  وخطباء وائمہ حضرات کاکردار محدودکردیاہے۔

چارروزہ ورکشاپ کا خلاصہ

قرآن ہم سے فریادکررہاہے کہ ہم اُس کی تعلیمات سے روگردانی کررہے ہیں۔

نظم ”قرآن کی فریاد“ ورکشاپ کے شرکاء کی آواز بن گئی۔

اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق ومکالمہ (IRD) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، آباد کا ایک ایساادارہ ہے جو علامہ اقبال کی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کوعصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے یہ ادارہ اسلام آباد میں ہی نہیں بلکہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں، گلگت بلتستان اورآزادکشمیر میں اب تک متعددپروگرام منعقد کرچکاہے جن میں ناموراہلِ علم معاشرے کی مشکلات، مسائل اورتقاضوں کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کومدنظررکھتے ہوئے حل پیش کرنے کی مساعی کرتے ہیں۔

مظفرآباد آزادکشمیر اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ اب کی بارعلماء وخطباء وائمہ حضرات کے لیے 4روزہ تربیتی ورکشاپ کی میزبانی اس کے حصہ میں آئی۔ جامعہ کشمیر کے وائس چانسلرڈاکٹرمحمدکلیم عباسی نے اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق ومکالمہ کی خواہش کے احترام میں جامعہ کشمیر کے دروازے اس ورکشاپ  کے لیے کھول دیئے۔ 4روزہ تربیت ورکشاپ کے اختتامی اجلاس (22جولائی) کی صدارت انہوں نے خودکی جبکہ کمشنر مظفرآبادچوہدری امتیازاحمد مہمان خصوصی تھے۔

ڈاکٹرمحمدکلیم عباسی نے اپنے خطاب میں درد دل بیان کرتے ہوئے معاشرے میں مساجد کے محدود ہوتے ہوئے کردارپرنہایت قلق کااظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ قرآن کی پہلی وحی کا آغاز اقراء سے ہونے کے باوجود معاشرے میں دینی اقدارمسلسل روبہ زوال ہیں۔ کیاوجہ ہے کہ لوگ نمازجمعہ اورعیدین سے پانچ منٹ قبل مساجدمیں جاتے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل پر انٹرنیٹ اورموبائل نے قبضہ کرلیاہے۔ مساجدسے ان کا تعلق برائے نام رہ گیاہے۔ جب مساجد سے تعلق نہیں توقرآن وسنتِ نبوی ﷺسے تعلق بھی واجبی ساہی بلکہ نہ ہونے کے برابررہ گیاہے۔ اس موقع پر انہوں نے معروف شاعرماہرالقادری مرحوم کی نظم ”قرآن کی فریاد“ بھی سامعین کے سامنے پیش کی۔

کمشنر مظفرآباد چوہدری امتیاز احمدنے کہاکہ فرقہ واریت کے باعث معاشرہ تلپٹ ہواہی ہے خود علماء وخطباء وائمہ حضرات بھی اپنا اثرکھوبیٹھے ہیں، جب تک وہ عصری علوم وفنون کواپنے نصاب کا حصہ نہیں بنائیں گے، محض پرانی کتب کے سہارے پر قرآن وحدیث سے لوگوں کو مربوط رکھنا امرمحال بنا رہے گا۔

جامعہ کشمیر کے شعبہ اقتصادیات کے سربراہ ڈاکٹرسیدنثارحسین ہمدانی نے کہاکہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت نے پوری دنیا کے انسانوں کواپنی گرفت میں لے رکھاہے، کمیونزم اپنی دکان بڑھاچکاہے۔ اب دنیا کوالٰہی اقتصادی نظام کی طرف آناہوگاتا کہ معاشرے سے ظلم وجورکاخاتمہ ہوسکے۔

          اختتامی تقریب میں جامعہ کشمیر کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹرفریدالدین طارق، اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق ومکالمہ کے ڈائریکٹرپروگرامزسیدحسن آفتاب کاظمی، شرکاء ورکشاپ کے نمائندگان علی عبداللہ، محمدصالح، محمدشکورحسین، مولانا سیدعین الیقین واجدگیلانی، مولاناعبدالخالق اوردیگرشخصیات نے بھی خطاب کیا۔

          اس موقع پر شرکاء میں اسنادشرکت بھی تقسیم کی گئیں۔ انعامی مقابلہ برائے معلومات عامہ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پرمولانامحمدشکورحسین کوکُتب کاخصوصی انعام دیاگیا۔

          اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق ومکالمہ کی جانب سے ڈاکٹرمحمدکلیم عباسی، کمشنر چوہدری امتیازاحمد، ڈاکٹرفریدالدین طارق، مختار احمدراٹھور، فہیم اختراوردیگرکو خصوصی شیلڈزبھی دی گئیں۔

اوراب ورکشاپ کے باقی دنوں پر ایک نظر

تربیتی ورکشاپ کے لیے اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق ومکالمہ  کے نمائندگان سیدحسن آفتاب کاظمی کی قیادت میں 18جولائی کوہی مظفرآباد پہنچ گئے تھے۔ وفد کا استقبال ڈاکٹرفریدالدین، مختاراحمدراٹھور اورفہیم اختر پرمشتمل جامعہ کشمیر کے نمائندگان نے کیا۔

          مقامی علماء کرام وخطباء وائمہ حضرات سے مزیدروابط پیدا کیے گئے اورپروگرام 19جولائی کوجامعہ کشمیر کے سٹی کیمپس میں شروع ہوا۔ اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق ومکالمہ اوراس پروگرام کے لیے اس کی معاون تنظیم Positive  Solutionsکے ارکان محمداسماعیل، بلال ادریس، محمدرویفع، محمدابرارالامین، منصورعلی شاہ اورراقم الحروف بھی اس موقع پر موجودتھے۔

          پہلے باضابطہ اجلاس میں بلال ادریس نے سماج کے روحانی، ماحولیاتی اوراجتماعی مسائل پر روشنی ڈالی اوراسلامی تناظرمیں ان کے حل کی بابت بتایا۔ سیدحسن آفتاب کاظمی نے ملک کے اقتصادی مسائل زیربحث لائے۔ انہوں نے سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام کو انسانیت کی تذلیل قراردیا۔

          20جولائی کو دن کاآغاز جامعہ کشمیر کے شعبہ اقتصادیات کے سربراہ ڈاکٹرسیدنثارحسین ہمدانی کے الٰہی اقتصادی نظام پر خصوصی خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اقتصادیات کی تعلیم اورعمل کاتعلق فرد کے روحانی اطمینان سے ہوناچاہیے لیکن سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام ایسانہیں کررہا۔ سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کوگِدھوں (Vultures) کی طرح نوچنے پریقین رکھتاہے۔ اس کا حل الٰہی اقتصادی نظام میں موجود ہے۔ اس نظام کے تحت دنیاکو عدل وانصاف کے اصولوں پر مبنی معاشرے کے قیام کو اپنا مطمع نظربناناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کمیونزم اپنی دکان بڑھاچکا، دنیااسلام کے اقتصادی نظام کو تعصب اورتنگ نظری کی وجہ سے قبول نہیں کررہی۔ اسلام کے اقتصادی نظام کوالٰہی نظام سے ہم آہنگ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید کہ دنیا اس نظام کی وجہ سے اسلام کی تعلیمات کو اس کی حقیقی روح کے مطابق سمجھنے پر آمادہ ہوجائے۔

          ”اپنے آپ کا عرفان حاصل کرکے ہم خوداعتمادی کی منزل حاصل کرسکتے ہیں۔“یہ اشارہ ہے کہ Positive Solutionsکے بلال ادریس کے لیکچر کی جانب۔ انہوں نے کہاکہ خودکوسمجھنا کسی بھی کام کی کامیابی کے لیے شرطِ اولین ہے۔

دوسرے دن کے موضوعات میں معاشرے پر اثراندازی کے موضوع پر حسن آفتاب کاظمی نے ایک عالم دین کے لیے دوراندیشی اورمنصوبہ بندی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اورشرکائے ورکشاپ بھی سوال وجواب کی صورت میں شرکت کرکے اپنی دلچسپی کابھرپورمظاہرہ کرتے رہے۔

          تیسرے دن ڈاکٹرمحسن زاہد نے Positive Solutionsکی نمائندگی کرتے ہوئے تدریس اورتحقیق میں جدید ٹیکنالوجی کے لازمی استعمال کی اہمیت کرزیربحث لایا۔ Positive Solutionsکے عتیق رضا خطبات کوبہتر اندازمیں پیش کرنے کے لیے طریقہئ کارپربولے۔ تبدیلی کیسے آئے اوربرقرارکیسے رہے؟ حسن آفتاب کاظمی کے لیکچرکاموضوع تھا۔ راقم الحروف نے ابلاغ عامہ کی اہمیت اورمؤثر استعمال کی ضرورت اورتقاجوں پر روشنی ڈالی۔ راقم الحروف نے اس بات پر زوردیا کہ ابلاغ میں تاثیراورردّعمل کی انتہائی اہمیت ہے۔ اس کا اطلاق جمعہ اورعیدین کے خطبات پربھی ہوتاہے اورلازماً ہوناچاہیے۔ خطباء وعلماء اگراس کا ادراک اب تک نہیں کرسکے توبعد ازخرابی بسیارہی سہی اب نوشتہ دیوارپڑھ لیں۔

          ورکشاپ کے تیسرے دن منتظمین نے قریبی تفریحی مقام پر پیرچناسی کا مطالعاتی دورہ کیا، جہاں ایک بزرگ کامزارمرجع خلائق بناہواہے۔ شرکاء نے سائیں سہیلی سرکار، شاہ عنایت، میرواعظ یوسف شاہ اورکے۔ایچ خورشید کے مزارات پربھی حاضری دی اورفاتحہ خوانی کی۔ اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق ومکالمہ اورPositive Solutionsکے ارکان نے شہر کے اساتذہ اوردانش وروں کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں بھی شرکت کی۔

          ورکشاپ کے آخری دن عتیق رضانے ”مساجد کی حیثیت معاشرے میں تبدیلی کے محرک کی ہے“ کے موضوع کو زیربحث لایاجبکہ Positive Solutionsکے سربراہ فضل الرحمٰن نے معاشرے کی تعمیر وتشکیل میں علماء کرام کے کردارپر اظہارخیال کیا، ”نوجوانوں کوکس طرح مختلف امورمیں شریک کیاجائے“؟ پر بلال ادریس نے آئمہ حضرات کویہ کہہ کر آمادہ کیا کہ اگرنوجوانوں کو یونہی بھنور میں چھوڑدیاگیا توجوخلاء پیداہوگا اُسے اسلام دشمن قوتیں پُرکریں گی اوراسلام کا نقصان ہوگا۔

          اختتامی تقریب وائس چانسلرڈاکٹرکلیم عباسی کے مجموعی اظہارِخیال اوراس اعلان کے ساتھ ختم ہوئی کہ آئندہ جامعہ کشمیر کے جملہ وسائل بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق ومکالمہ کے پروگراموں کے لیے ہروقت حاضر رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X